Hot Posts

منافع بخش کام کون سا ہے




بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

علم آپ کو نہیں تھا
سیکھا آپ نے نہیں
تجربہ آپ نے نہیں کیا

جن سے مال خرید لیا دوبارہ آپ بیچنا چاھتے ہیں تو وہی چیز آدھی قیمت پر بھی نہیں لیتے۔ کہتے ہیں اس کو تو آپ نے بیمار کر دیا یہ نہیں بکے گا یہ علاج کرو وہ علاج کرو وغیرہ وغیرہ۔
سیدھے سادے لوگ فیس بُک یو ٹیوب پر ویڈیوز وغیرہ دیکھ کر جذبے میں آ جاتے ہیں بس اس سے میں لاکھوں کروڑوں کما لوں گا سوچ کر لے لیتے ہیں۔
میرے بھولے بھالے دوستو۔ پہلے مکمل تحقیق کرو کہ جو چیز جو جانور آپ لے رہے ہیں آپ کے پاس اسکے رہنے کی جگہ اس کی غذا اس کی بیماریوں اس کے علاج وغیرہ کی معلومات ہے یا نہیں۔
فینسی مرغی ویکسین اور وٹامن کے سہارے زندہ رہتی ہے اس کی رہائش کا ٹمپریچر اور نمی آپ کے کنٹرول میں ہو غذا کب کتنی مقدار میں دینی ہے کس وقت وٹامن دینے ہیں کس وقت فلیشنگ کرنی ہے۔
میں نے ڈیلر حضرات سے گزارش کی کسی نے ریپلائے نہیں کیا ایک سال چوزے ان نسلوں کے لے کر پالے دوسرے سال ایک ماہ کا چوزہ لیا ان بریڈ کا کہ شاید یہ بچ جائیں وہ بھی مر گئے پھر تیسرے سال بڑی مرغیاں لے لیں اس نسل کی کہ شاید ان کے ذریعے کامیابی حاصل ہو وہ بھی ان گرمیوں میں مر گئیں۔ ۔۔۔ میں نے ان تین سال میں یہ سیکھا کہ سب بیچنے والے ہیں اور نام بکتا ہے مطلب کس کے فارم کی بریڈ ہے یہ دیکھتے ہیں لوگ مجھ سے نا تو انڈے سیل ہو سکے نا چوزہ لیا کسی نے جہاں لوگ ان نام والے فارمر حضرات سے رنگ برڈ کا ایک ماہ کا چوزہ 4 ہزار کا لے رہے تھے میرے پاس جو ایک ماہ کا چوزہ تھا اس 300 سو روپے پر پیس ریٹ لگاتے تھے۔ سب مرغیاں جب مر گئیں تو ان سے ایک تجربہ یہ بھی ہوا کہ ہمارے ملک میں کئی طرح کے وائرس ہیں اور سب سے زیادہ مچھروں کے ذریعے پرندوں کو نقصان پہنچا۔ لہذا باھر ملک کی فینسی مرغی ہمارے ملک میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی۔
وٹامن وغیرہ پر پل بھی جائے تو عام خریدار کے پاس جاتے ہی مر جاتی ہیں نقصان ہی ہوتا ہے۔
لہٰذا غریب عوام سے اپیل ہے درخواست ہے اپنے پیسے ضائع نا کریں کسی ڈیلر کی باتوں میں آ کر کروڑوں کی لالچ میں اپنے ہزاروں ضائع نا کریں۔
بطخ کا کاروبار بھی فلاپ ہے۔
گوٹ فارم کی بات کریں تو ساھیوال والے کہتے ہیں بیتل امرتسری راجن پوری اور ناگری مکھی چینی بریڈ پالنی چاھئے کہ وہ دودھ دینے والی نفع بخش بکری ہے اور ان کی یو ٹیوب پر ویڈیوز دیکھیں تو بندے کو جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ بکریاں پالنی چاھئے اور ان سے دودھ حاصل کیا جائے وغیرہ وغیرہ لیکن ان کی ویڈیوز میں ہی کچھ چرواھے یہ اعتراف کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ صبح سے شام تک باھر چھوڑتے ہیں چرانے کیلئے شام کو انہیں گندم کا ایک ایک بکری کو ایک ایک کلو دیتے ہیں اور پھر اچھا دودھ دیتی ہیں ڈیڑھ کلو دو کلو کچھ بکریاں ڈھائی کلو تک بھی دودھ دیتی ہیں۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ یہ بکری جو کہ ساٹھ ستر ہزار روپے سے لے کر لاکھ روپے سے زائد تک کی ملتی ہے لے لیتا ہے تو سارا دن چراگاہ کا حساب اور گندم کا حساب لگائیں تو یہ بکری بھی کوئی خاص نفع بخش تو نا ہوئی جتنی رقم دے گی اس سے زیادہ کھا جائے گی۔ اور یہ نسل پیدا ہونے کی 18 ماہ بعد کراس ہوتی ہے اور بچہ دینے کے بعد ایک سال تک بھی کراس نہیں ہوتی جو ہم نے ناگری بکری لی تھی وہ بچے کو دودھ نا دیں تو آدھا کلو دودھ دیتی ہے ایک ٹائم کا جو کہ انہوں نے ڈھائی کلو تک ایک وقت کا دودھ دے گی کہا تھا جب ہم نے لی تھی مطلب یہ کہ جہاں چراگاہیں موجود ہیں وہاں شوق کے طور پر یہ نسل پالنا نفع بخش کاروبار ہے لیکن جہاں چراگاہیں موجود نہیں وہاں یہ نفع بخش نہیں بلکہ قیمت سے زیادہ کھا جانے والی بریڈ ہے راجن پوری بیتل ناگری بیتل امرتسری بیتل وغیرہ۔
منافع بخش کام کون سا ہے منافع بخش کام کون سا ہے Reviewed by POULTRY HUB on July 04, 2021 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.